PSX مارچ 2025 میں مثبت، KSE-100 میں 4% اضافہ! آئی ایم ایف معاہدہ، بجلی نرخ میں کمی اور معاشی استحکام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔
آئی ایم ایف معاہدہ: مارچ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مثبت کارکرد
دو مسلسل مندی کے مہینوں کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے 2025 میں پہلی بار مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی بنیادی وجہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان طے پانے والا سٹاف لیول معاہدہ (SLA) ہے۔ اس معاہدے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا، کیونکہ اس سے ملک کو ضروری ڈالرز ملیں گے جو بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔
مارکیٹ میں درمیانی ہفتے کے دوران اس وقت زبردست ریلی دیکھنے میں آئی جب SLA کا اعلان کیا گیا، اور KSE-100 انڈیکس میں 1,100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ تاہم، اس کے باوجود، مختصر تجارتی ہفتہ منفی اختتام پذیر ہوا، جس سے مسلسل چھ ہفتوں کی جیت کا سلسلہ رک گیا۔ اس کے باوجود، ماہانہ بنیادوں پر KSE-100 انڈیکس میں 4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی وجوہات میں آئی ایم ایف معاہدہ، گردشی قرضے کے حل میں پیش رفت، اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی اقدامات شامل ہیں۔
مارکیٹ کا رجحان اور اہم پیش رفت
مارچ کے آخر میں سرمایہ کاروں کے رجحان میں احتیاط دیکھی گئی جب آئی ایم ایف نے صرف 1 روپے فی یونٹ بجلی کے نرخوں میں کمی کی اجازت دی، جبکہ حکومت میں 8 روپے فی یونٹ کمی کی بات ہو رہی تھی۔ اس فیصلے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کی وجہ سے عید الفطر کی چھٹیوں سے قبل انڈیکس مستحکم کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔
مارچ کے دوران PSX نے اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت کارکردگی دکھائی۔ KSE-100 انڈیکس نے 113,499 پوائنٹس پر آغاز کیا، مہینے کے دوران 119,422 کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جبکہ کم ترین سطح 111,717 رہی۔ ماہ کے اختتام پر انڈیکس 117,807 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 4,555 پوائنٹس یا 4.02 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، ہفتہ وار بنیادوں پر انڈیکس میں 635 پوائنٹس یا 0.5 فیصد کی کمی ہوئی۔
مارکیٹ کی کارکردگی کو متاثر کرنے والے عوامل
عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) کے مطابق، KSE-100 انڈیکس نے ہفتے کے دوران ملا جلا رجحان دکھایا۔ مارکیٹ ابتدائی طور پر سیمنٹ کمپنیوں کے لیے مجوزہ رائلٹی میں اضافے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کے خدشات کے باعث مندی کا شکار رہی۔ تاہم، SLA معاہدے کے بعد مارکیٹ میں بحالی دیکھنے میں آئی، جو $7 بلین ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے پہلے جائزے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس سے $1.1 بلین کی دوسری قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے $1.3 بلین کا 28 ماہ کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) بھی حاصل کر لیا۔
معاشی لحاظ سے، پاکستان کی جی ڈی پی میں 2QFY25 میں 1.73 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں یہ ترقی 1.54 فیصد رہی، جو پچھلے سال کی 2.33 فیصد ترقی کے مقابلے میں کم تھی۔
دوسری جانب، حکومت نے ٹی بلز نیلامی میں 640 ارب روپے اکٹھے کیے، جو 650 ارب روپے کے ہدف سے تھوڑے کم تھے، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ کے رجحانات اور سرمایہ کاروں کا رویہ
AKD سیکیورٹیز لمیٹڈ کے مطابق، مارکیٹ میں ہفتے کے دوران معمولی مندی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے پچھلے ہفتے کے آل ٹائم ہائی کلوزنگ کے بعد منافع لینے کا فیصلہ کیا۔ انشورنس کمپنیوں کی جانب سے بھاری فروخت اور ماہ کے اختتام پر رول اوورز کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا۔
تاہم، مارکیٹ میں کچھ مثبت پہلو بھی موجود رہے، جن میں SLA معاہدہ، $1.3 بلین کا RSF ڈیل، اور آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کا انتظار شامل تھا۔
کرنسی کے محاذ پر، پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں زیادہ تر مستحکم رہا اور ہفتے کے آخر میں 280.3 روپے پر بند ہوا۔ تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں $540 ملین کی کمی ہوئی، جس کے بعد ذخائر 10.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو چھ ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
تجارتی سرگرمیاں اور مستقبل کا منظرنامہ
مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں اوسط یومیہ تجارتی حجم 38 فیصد بڑھ کر 317 ملین حصص ہو گیا، جبکہ کل ٹریڈڈ ویلیو 27 فیصد اضافے کے ساتھ $87 ملین تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق، مارکیٹ آئندہ ہفتے میں بھی مثبت رجحان برقرار رکھے گی، خاص طور پر عید الفطر کی چھٹیوں کی وجہ سے مختصر تجارتی ہفتے میں استحکام کا امکان ہے۔ مہنگائی کی متوقع کمی بھی اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) 0.79 فیصد پر آجائے گا، جو گزشتہ چھ دہائیوں میں سب سے کم ہوگا۔
KSE-100 انڈیکس اس وقت 6.4x پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو اس کے 10 سالہ اوسط 8.0x کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ 8.2 فیصد کا ڈیویڈنڈ ییلڈ فراہم کر رہی ہے، جو اس کے 10 سالہ اوسط 6.5 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے۔
باقی 2025 کے لیے پیش گوئیاں
AKD سیکیورٹیز کے ماہرین کے مطابق، PSX آئندہ مہینوں میں بھی مثبت کارکردگی جاری رکھے گا، جبکہ آئی ایم ایف معاہدہ مارکیٹ میں بنیادی محرک کے طور پر کام کرے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دسمبر 2025 تک KSE-100 انڈیکس 165,215 پوائنٹس تک پہنچ سکتا ہے، جس کی وجہ کھاد کے شعبے میں مضبوط آمدنی، بینکوں میں مستحکم ریٹرنز، اور تیل اور گیس کمپنیوں (E&P, OMCs) کی بہتری ہوگی، جو شرح سود میں کمی اور معاشی استحکام سے فائدہ اٹھائیں گی۔
نتیجہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مارچ 2025 میں شاندار کارکردگی دکھائی، جو دو ماہ کی مسلسل مندی کے بعد ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ آئی ایم ایف کے سٹاف لیول معاہدے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا، جس کی وجہ سے KSE-100 انڈیکس میں ماہانہ 4 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اگر پاکستان آئی ایم ایف اصلاحات پر کامیابی سے عمل درآمد کرتا ہے تو مزید مالی امداد اور بہتر معاشی اشاریے مارکیٹ میں مزید استحکام لا سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو بیرونی خطرات اور پالیسی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو مارکیٹ کے رجحان پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، PSX کے لیے آئندہ مہینے مثبت نظر آ رہے ہیں، اور مضبوط معاشی ترقی کے ساتھ مزید ریکارڈ ہائی حاصل کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
COMMENTS